Chalo choro Muhabat jhot hay, Best Poetry
, چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے,by Mohsin Naqvi
چلو
چھوڑو
چلو
چھوڑو محبت جھوٹ ہے
عہدِ
وفا اِک شَغل ہے بے کار لوگوں کا
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
خلش
دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
ہمارے
وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رایگان بخش
صحرا میں سَرابوں سے اَٹے موسم کا خمیازہ
چلو
چھوڑو چلو چھوڑو کہ اب تک میں اندھیروں کی
دھمک میں سانس کی ضربوں پہ چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا
مجھے
احساس ہی کب تھا کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گے
چلو چھوڑو چلو چھوڑو وہ سارے خواب کچّی بھُر
بھُری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
وہ
سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
تمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام
لکھتی تھیں میرا لیکن
تمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جُرم کرتی تھیں
چلو چھوڑو
چلو
چھوڑو سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سے
چلو
چھوڑو
چلو
چھوڑو میرا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے
دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم
اُترنے دو
میرے
خوابوں کو مرنے دو
پھر
نئی تصویر دیکھو
پھر
نیا مکتوب لکھو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میری ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
چلو
چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہدِ
وفا اِک شَغل ہے بے کار لوگوں کا
6 Comments
https://touqeertabi789.blogspot.com/2022/03/Chalo-choro-Muhabat-jhot-hay-Best-Poetry-by-Mohsin-Naqvi.html
ReplyDeleteMA SHAA ALLAH💙
ReplyDeleteTry Mari wesy he😊
DeletePerfect as ever 👌
Delete💙
Delete.
ReplyDelete